ابنا: نبیل رجب نے کہا کہ شدید جسمانی ایذاؤں کی بنا پر عبدالہادی خواجہ کا چہرہ پہچانا نہیں جا رہا تھا۔یاد رہے کہ بحرین کی سکیورٹی فورسز نے اب تک ایک ہزار انقلابی افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سیاسی رہنما، سابق ممبران پارلمنٹ، ممتاز علماء دین ، ڈاکٹر اور نرسیں شامل ہیں۔ادھر انسانی حقوق کمیشن کے ایک رکن عباس العمران نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں پچیس فیصد تعداد بچوں کی ہے۔عباس العمران نے آج العالم کوبتایا کہ بچوں کاقتل ، انہیں تعلیم سے محروم کرنا، بچوں کےگروہوں کو ایک ساتھ تشدد کانشانہ بنانا اور انہیں رعب و وحشت کا شکار بنانا اور ان پر جنسی تشدد ایسے انسانیت سوز جرائم ہیں جو بحرینی اور سعودی جارح افواج انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرینی بچوں کو ایسے عالم میں منظم طریقےسے گرفتار کیا جا رہا ہےجب کہ انہیں ہرطرح کے تشدد سے دور رکھا جانا ضروری ہے۔ادھر خلیج فارس تعاون کونسل نے بحرین میں جاری تشدد کی حمایت کی ہے۔ اس کونسل نے امارات میں اپنی مشاورتی نشست میں آل خلیفہ کے تشدد اور غیر انسانی اقدامات کو دانشمندی سے تعبیر کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169
3 مئی 2011 - 19:30
News ID: 239935
بحرین میں انسانی حقوق تنظیم کے مرکز کے سربراہ نے کہا ہے کہ بحرین کے ایک انقلابی رہنما عبدالہادی خواجہ کو شدید طرح سے جسمانی ایذائيں پہنچائي جارہی ہیں۔ نبیل رجب نے العالم سے گفتگومیں کہا کہ آل خلیفہ کے کارندوں نے عبدالہادی خواجہ کو اس قدر جسمانی ایذائيں پہنچائي ہیں کہ انہیں شدید زخمون کےعلاج کے لئے ایک فوجی اسپتال میں داخل کردیاگيا ہے۔